Wednesday, February 16, 2011

’’ فکشن شعریات تشکیل و تنقید‘‘---- گوپی چند نارنگ

’’ فکشن شعریات تشکیل و تنقید‘‘---- گوپی چند نارنگ


محض تھیوری کے حوالے تک گوپی چند نارنگ کی گراں قدر خدمات کو محصور کرنا دیانت داری نہیں۔ اردو فکشن کی تنقید کے حوالے سے گوپی چند نارنگ کی خدمات بے حد اہمیت کی حامل ہیں۔ نارنگ صاحب کی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے ادب میں جبرََا کسی اصول کے نافذ کرنے یا تھوپنے کو سرے سے نکار دیا۔ نتیجتاً جو ادب کو ایک الگ زاویے سے پڑھنے اور سمجھنے کے حامی تھے ،وہ سب لوگ نارنگ صاحب کے ساتھ ہو لیے۔نارنگ صاحب نے نہ صرف احتجاج کیا اور نیا راستہ بنایا بلکہ خود اس پر چل کر بھی دکھایا۔متن کی الگ طرح سے پرکھ ،قاری کی اہمیت،پرانے وضع کیے ہوئے اصولوں پر از سرِ نو غور کرنے کا چلن اردو ادب میں بلا شبہ نارنگ صاحب نے شروع کیا اور اس سلسلہ کی کئی کڑیوں میں ان کی کتابیں ’’ ساختیات پس ساختیات اور مشرقی شعریات ‘‘، ’’ادب کا بدلتا منظرنامہ، مابعد جدیدیت پر مکالمہ‘‘، ’’ اردو زبان و لسانیات‘‘ ’’جدیدیت کے بعد‘‘’’ترقی پسندی جدیدیت ما بعد جدیدیت‘‘’’ادبی تنقید اور اسلوبیات ‘‘ اور ’’فکشن شعریات تشکیل و تنقید‘‘ سنگِ میل کی حیشیت رکھتی ہیں ۔ ان کی تحریر کرد ہ تمام کتابوں کی فہرست طویل ہے اور کوئی بھی اپنے موضوع اور میدانِ عمل کے حساب سے کم اہم نہیں،مگر موخر الذ کر’’ فکشن شعریات تشکیل و تنقید‘‘ مجھے اس لحاظ سے الگ لگتی ہے کہ یہ فکشن کی تفہیم کی سمت متعین کرنے میں معاون ہے۔اردو کی بد نصیبی یہ رہی کہ اس زبان کو بہ مقابلہ دیگر ایشیائی زبانوں کے ایک زمانے تک فکشن کا ایک عدد ناقد نصیب نہ ہو سکا ۔ جو نام نہاد نقاد تھے وہ نظریے اور رجحانات کے دریا میں اس قدر غوطہ زن ہوئے اور خود کو اس قدر پروگرامڈکر لیا کہ فکشن کے فن پاروں کو نہ ادبی دیانت داری کے ساتھ پڑھ پائے اور نہ پرکھ پائے۔ کتابِ ہذا سے قبل نارنگ صاحب کی ایک اور تصنیف جس کا تعلق فکشن کی تنقید سے تھا ’’اردو افسانہ روایت اور مسائل‘‘ ادبی حلقوں میں بہت سراہا گیا۔ نارنگ صاحب کا طریق تنقید کچھ اس طرح کا ہے کہ پہلے وہ قراٗت کے عمل سے گذرتے ہیں پھر تفہیم کے عمل سے پھر کسی نتیجہ پر پہنچ کر فن پارہ کی قدر شناسی کرتے ہیں تب کہیں جا کر کوئی نتیجہ اخذ کرتے ہیں ۔اسلوب،ہیئت اور تکنیک ان کے یہاں بعد کی چیزیں ہیں۔ اب رہا سوال یہ کہ کیا ایک ناقد جو نتیجہ اخذ کرتا ہے ،کسی فن پارہ کی قدر متعین کرتا ہے تو کیا ناقد کی ذہنی بالیدگی یا کم مائیگی کا بھی اس میں عمل دخل ہوتا ہے یا پھر محض فن کار کا ادبی قد ہی فن کا ادبی قد متعین کرتا ہے؟ اس سلسلہ میں ڈاکٹر مولا بخش کی اس راے سے شاید ہی کوئی اختلاف کر پائے گا کہ:
’’ اگر قاری کی مختلف سطحیں اور درجات ہیں تومتن بھی اچھا،بہت اچھااور برا بہت برا ہو سکتا ہے۔یہ بھی سچ ہے کہ ایک با شعور قاری متن کو نکھار دیتا ہے۔ثابت ہوا کہ قاری کی اہمیت سے انکار کرنا ناممکن ہے۔‘‘
(انشاء کا گوپی چند نارنگ نمبر صفحہ 195)
کوئی بھی ناقد پہلے قاری ہوتا ہے اور پھر بعد میں ناقد۔ ایک اچھا قاری ہی ایک اچھا ناقد ہو سکتا ہے۔اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ شاعری کی تنقید کے مقابلے فکشن کی تنقید زیادہ مشکل ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ شاعری کہ مقابلے فکشن کی قراٗت اور تفہیم زیادہ مشکل ہے۔اور شاید یہ بھی ایک وجہ اس کی رہی ہو کہ اردو ادب میں جتنی پرکھ اردو شاعری کی ہوئی اتنی فکشن کی نہیں اور اسی طرح جتنے ناقد شاعری کے اردو میں پیدا ہوئے اتنے افسانوی ادب کہ نہیں۔اردو شاعری کی تنقید اور نارنگ صاحب کی فکشں کی تنقید کے بارے میں اظہارِخیال کرتے ہوئے شہاب ظفر اعظمی نے بجا لکھا ہے :
’’اردو زبان و ادب کی تاریخ و تہذیب نے وہ مخصوص ذہن پیدا کر دیا ہے کہ اردو ادب کی تفہیم و تعبیر کا عمل شاعری سے شروع ہوتا ہے اور اکثر شاعری پر ہی ختم ہو جاتا ہے لیکن پروفیسر گوپی چند نارنگ نے جو تنقیدی منظرنامے پرہمیشہ جدید تر اور تازہ دم دکھائی دینے کے قائل ہیں اپنی مخصوص افتادِ طبع کی وجہ سے شاعری کی بجائے افسانے پر زیادہ توجہ کی ہے۔انہوں نے افسانے پر زیادہ لکھا ہے اور اس انداز سے لکھا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ فکشن کی تنقید ہی ان کا اصل میدان ہے۔‘‘
(انشاء کا گوپی چند نارنگ نمبر صفحہ 251)
بالکل صحیح فرمایا شہاب صاحب آپ نے۔یہ بالکل سچ ہے کہ اردو ادب میں تنقید کے میدان میں جس قدر توجہ شاعری پر دی گئی اتنی نثر ی ادب یا افسانوی ادب پر نہیں دی گئی۔گوپی چند نارنگ نے گو کہ شاعری پر تنقید کی مگر افسانوی ادب کو دوسرے نقادوں کی طرح نظر انداز نہیں کیا۔ان کی کتاب ’’اردو افسانہ روایت و مسائل‘‘ اور تازہ ترین تصنیف ’’فکشن شعریات تشکیل و تنقید‘‘ اس بات پر دال ہیں کہ وہ فکشن کی تنقید پر ترجیحی بنیاد پر توجہ دینے کہ حامی ہیں۔
کتابِ ہذا میں انہوں نے فکشن کی تنقید کے نہ صرف اصول وضع کیے ہیں بلکہ ان اصولوں کو برتا بھی ہے اور کلاسِیک فکشن نگاروں کے فن پر بات کر کے اردو ادب میں فکشن کی شعریات اور فکشن کی تنقید کے عمدہ نمونے بھی پیش کیے ہیں۔اردو کلاسیک افسانہ نگاروں اور ان کے بہترین فن پاروں کی مختلف زاویہ سے پرکھ اس کتاب کی زینت بنے ہیں۔ اس اثنا میں پریم چند کے افسانوں میں ironyکے استعمال پر اس کتاب کے پہلے مضمون میں پر مغز اور مدلل بحث کی گئی ہے۔ نارنگ کو بھی اس بات کا شدید احساس ہے کہ پریم چند جیسے عظیم فن کار کو ان کے فن اور ان کی تخلیقات کی بنیاد پر کم اور ان کے سیاسی، مذہبی اور ادبی نظریات کی بنیاد پر ان کے قد کا تعین کرنے کی زیادہ کوشش کی گئی۔ایک تو ویسے ہی اردو افسانوں اور ناولوں کے ساتھ نقادوں نے سوتیلا پن کا رویہ رکھا اور جب تھوڑی بہت نظرِ کرم کی بھی تو پریم چند جیسے عظیم فن کار کی فن کاری پر بات کرنے کے بجائے انہیں الگ الگ سیاسی، مذ ہبی،اور ادبی نظر یوں کی بنیاد پر ان کی فن کارانہ عظمت کو ٹکڑوں میں تقسیم کر کے ادبی جانب داری اور غیر دیانت داری کا ثبوت پیش کیا گیا۔ اور اگر کسی نے ان کی تخلیقات پر توجہ کی بھی تو محض ان کے اکاّ دکاّافسانوں پر ہی اکتفا کیا۔بلا شبہ ’’کفن ‘‘ اور’’ گؤ دان‘‘ ان کے اچھے فن پارے ہیں مگر ایک عظیم فن کار کو محض دو فن پاروں کے حوالے سے محدود کر دینا کہیں سے بھی ادبی دیانت داری نہیں۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ ان کی مختلف فنی جہات اور ان کے فکری کائنا ت کے تجزیے میں نقاد اپنی تنقیدی صلاحیت کا استعمال کرتے مگر ایسا نہ ہونا دال ہے اس بات پر کہ بجائے سنجیدہ تنقید کے پریم چند کی تخلیقی کائنات ایک چھچھلی اور سطحی گفتگو سے آگے نہیں بڑھی۔ ایسے میں گو پی چند نارنگ جیسے نقاد نے پریم چند پر قلم اٹھا یا اور یہ لکھ کر اپنی دیدہ وری کا ثبوت پیش کیا۔
’’ ۔۔۔بعد میں آ نے والوں نے جن بنیادوں پر اردو ہندی افسانیاور ناول کا ایوان تعمیر کیا، وہ بنیادیں پریم چند ہی کی رکھی ہوئی ہیں۔پریم چند کا ذہنی، فکری اورفنی ارتقا برابر جاری رہا۔وہ داستان کی فضاسے نکل کر شجاعت و مردانگی کی راجپوتی فضا میں آئے اور پھر اس سے بھی آگے قدم بڑھا کرانھوں نے وطن کے درد کو سمجھا، تحریکِ آزادی کی تڑپ بھی محسوس کی، اور انسان کو بھی پہچاننا سیکھا۔اس میں انہوں نے پچھلے آدرشوں سے بھی مدد لی،گاندھی واد کو بھی آزمایا اور اشتراکیت کا بھی سہارا لیا۔ لیکن ایک سچے فن کار کی طرح وہ آ گے بڑھنا، رد و قبول کرنا اور ٹھکرانا اور اپنا نا جانتے تھے۔اپنے حق سے وہ کبھی دست بردار نہیں ہوئے،ان کے فن کی سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اپنے آپ کوOutgrowکیا اور اپنے تخلیقی سفر کے دوران وہ کبھی کسی ایک نقطے یا دائرے کے اسیر نہیں رہے۔‘‘
(صفحہ 68)
ظا ہر ہے کہ پریم چند جیسی ہمہ جہت شخصیت کو کسی بھی دائرے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔پریم چند کے ماہرین نے ماضی میں ان کے فن پاروں کو کچھ اس طرح پرکھنے کی کوشش کی جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی اشتراکی فن کار کی بات کر رہے ہیں۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پریم چند کے فن پاروں میں کچھ اشتراکیت کے فلسفے سے میل کھاتی ہوئی چیزیں موجود ہیں لیکن محض اس بنا پر انہیں اشتراکی کہہ کر ایک نظریہ کے تحت محصور کر دینا ایک ہمہ جہت اور اعلی پائے کے فن کار کے فن کے ساتھ انصاف نہیں ہو سکتا۔زندگی مختلف الجہت ہوتی ہے، ایک فن کار زندگی کی جہتوں پر کام کرتا ہے تو یہ فطری ہے کہ زندگی کے کسی بھی ایک گوشے یا ایک سے زائد گوشوں سے اس کی ہمدردی ہوگی اور اس بنیاد پراس کا ذہنی جھکاؤ زندگی سے تعلق رکھنے والے کسی بھی فلسفے کی طرف ہو سکتا ہے۔اس کا یہ مطلب قطعی نہیں کہ اس عظیم فن کار کے فن پر بات کرتے ہوئے ایک مخصوص چشمہ لگا کر ہی بات کی جائے ۔ اور کیا تنقید کرتے وقت کوئی نہ کوئی چشمہ ضروری ہے؟ کیا ہم بغیر چشمے کے تنقید نہیں کر سکتے۔ میں اس کتاب ’’فکشن شعریات تشکیل و تنقید‘‘ کے مطالعے کے بعد یہ د عوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس کتاب میں کسی بھی عظیم فن کار پر بات کرتے ہوئے پروفیسر نارنگ نے کسی بھی چشمے کا استعمال نہیں کیا ہے اور اس خصوصیت کو ہمیں تسلیم کرنا چاہئے کہ اس اصول کے بغیر غیر جانب دارانہ تنقید ممکن نہیں۔ پریم چند کے فن پاروں پر بھی اس کتاب میں مدلل اور پر مغز گفتگو کی گئی ہے۔پریم چند بلا شبہ مختصر افسانہ کی موجودہ شکل کے معماروں میں سے ہیں اور ان کی تخلیقات کلاسیک اردو ادب کے عمدہ نمونوں کے بطور جانی جاتی ہیں۔پریم چنداردو کے جتنے بڑے افسانہ نگار تھے اتنا ہی بڑا قد ان کا ہندی ساہتیہ میں بھی ہے اس لیے پریم چند کے فن پر گفتگو کرنے کے لیے اردو اور ہندی دونو ں ادب کا شعور لازمی ہے۔اس کا احساس گوپی چند نارنگ کو پوری طرح ہے لہٰذا لکھتے ہیں :
’’ پریم چند کے بارے میں اول توہندی ،اردو کی کشاکش ہی دور نہیں ہوئی ، زیادہ تر ہندی والے اردو پریم چند سے نا واقف ہیں اور زیادہ تر اردو والے ہندی پریم چند سے کو ئی دلچسپی نہیں رکھتے، حالا نکہ پریم چند کی شخصیت اور ان کے فن کو ان کی ابتدائی تربیت، تصنیف و تالیف کے اردو پس منظر اور اردو زبان کے شعوری اورغیر شعوری اثرات کے بغیر سمجھا ہی نہیں جا سکتا۔اسی طرح ہندی کی طرف ان کا جھکاؤ ہوا اور اپنے تخلیقی اظہار کے لیے بعد میں انھوں نے جس طرح ہندی کو اختیار کیا تو لا محالہ اردو میں بھی پورے پریم چند کو ان کے ہندی میلان و اظہار کے بغیر سمجھنا نا ممکن ہے۔ ابھی تک کوئی ایسا اعلیٰ تنقیدی کارنامہ نظر نہیں آتاجو پریم چند کی اردو ہندی شخصیت سے پوری غیر جانب داری اور علمی معروضیت کے ساتھ انصاف کرتا ہو۔‘‘
)صفحہ (19-20
ہندی کے’ اپنیاس سمراٹ‘ کو ہندی والو ں نے سمراٹ کا نام تو دیا مگر سمراٹ کا درجہ نہیں دیا جس کے وہ مستحق تھے۔اردو والوں نے بھی ان کی گراں قدر خدمات کا نوٹس اس طرح سے نہیں لیا جس طرح سے لیا جانا چاہیے تھا ۔ گوپی چند نارنگ نے اس کتاب میں ذہن کی جس بالیدگی سے پریم چند کی کہانیوں کا جائزہ لیا ہے اور ان کی کہانیوں میں تکنیک کے اعتبار سے Ironyکے استعمال پر جس قدر عالمانہ گفتگو کی ہے اس کے بارے میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ تکنیک کے حوالے سے پریم چند کی کہانیوں کا تجزیہ اس طرح اس سے پہلے کسی نے نہیں کیا ۔ صرف پریم چند ہی نہیں منٹو جیسے عظیم فن کار کے بارے میں جو کچھ پروفیسر نارنگ نے لکھا ہے وہ فکشن کی تنقید کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔منٹو ایک ایسے افسانہ نگار تھے جن کی قدر شناسی ان کی زندگی میں نہیں ہو پائی ، جس لعن طعن کا سامنا منٹو نے اپنی زندگی میں کیا وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والا تھا۔منٹو کے زمانے میں ناقدین کی آرا کے بارے میں بات کرتے ہوئے پروفیسر نارنگ نے اپنی کتاب میں کچھ اس طرح لکھا ہے:
’’منٹو پر لوگوں نے کیسے کیسے وار نہیں کیے،راجہ صاحب محمود آباد، حیدرآباد کے ماہر القادری، بمبئی کے حکیم مرزا حیدر بیگ، نوائے وقت کے موسس حمید نظامی اور طرح طرح کے ادیب و صحافی۔ البتہ احمد ندیم قاسمی، منٹو کے فن کے قدر دان تھے۔افسانہ ’بو‘ انھیں نے ادبِ لطیف میں اور بعد میں ’کھول دو‘ نقوش میں شائع کیا تھا ۔ لیکن فیض احمد فیض نے بحیثیت ایڈیٹر پاکستان ٹائمز’ٹھنڈا گوشت‘ کے بارے میں جو رائے دی وہ لکھی ہوئی موجود ہے۔انھوں نے کہا ’’افسانے کے مصنف نے فحش نگاری تو نہیں کی لیکن ادب کے اعلیٰ تقاضوں کو پورا بھی نہیں کیا، کیو نکہ اس میں اس میں زندگی کے بنیادی مسائل کا تسلی بخش تجزیہ نہیں ہے۔‘‘ گویا ادب کا منصب ’بنیادی حقائق کا تجزیہ کرنا‘ اور ’تسلی بخش تجزیہ کرنا‘ ہے یعنی وہ کام جو خود فیض نے کبھی نہیں کیاتھا، یعنی اگر فیض بڑے شاعر ہیں تو اس لیے کہ ان کی شاعری میں گہری دردمندی اور جمالیاتی رچاؤ ہے نہ کہ مسائل کا تجزیہ، اور وہ بھی’ تسلی بخش تجزیہ ‘ جو اول و آخرایک اضافی چیز ہے۔تاجور نجیب آبادی،شورش کاشمیری،ابو سعید بزمی،محمد دین تاثیر اور بہت سوں نیمنفی بیانات دیے، البتہ باری علیگ، کنہیا لال کپور، صوفی غلام مصطفےٰ تبسم نے حق گوئی سے کام لِیا، لیکن مولوی عبد الحق نے جواب تک دینا گوارا نہیں کیا۔‘‘
(صفحہ71)
اتنے بڑے بڑے ادیبوں نے منٹو کی تخلیقی کاوشوں کی نفی میں صف بندی کر ڈالی۔ کس قدر تکلیف میں مبتلا رہا ہوگا وہ شخص، کمال تو یہ ہے کہ قصور اس فن کار کا محض اتنا تھا کہ اس نے سماج کا عکس پیش کر دیا تھا ، وہ عکس جو سماج کی ایک نری سچائی پر مبنی تھا۔سماج کی یہی سچائی ادب کو جنم دیتی ہے، ادب کی محرک ہوتی ہے۔ ان اصلاح پسند حضرات نے کبھی اس طرف نہیں سوچا کہ سماج کی ان حقیقتوں سے محض آنکھیں بند کر لینے سے حقیقت بدل نہیں جاتی۔ ایسے میں اگر منٹو نے حقیقت سے دامن چرانے کے بجائے آنکھیں ملائیں تو کیا جرم کر دیا؟ منٹو کی موت کو ایک زمانہ گذر جانے کے بعد البتہ حقیقت پسند نقاد وں نے ان کی تخلیقات کے محاسن کو بہ سر خم تسلیم کیا اور ان کی عظمت کو خوب سراہا۔یہ بھی منٹو کی خوش قسمتی تھی ور نہ اردو میں نقادوں کا جو حال ہے اس پر تو افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔
ادب وہی دکھاتا ہے جو سماج میں وقوع پزیر ہوتا ہے ۔یہ سمجھانے کی پوری عمر منٹو نے کوشش کی مگر جن لوگوں نے منٹو سے اتفاق کیا ان کی تعداد آٹے میں نمک سے زیادہ نہیں تھی۔منٹو ایک مجدد کی طرح اردو فکشن میں آیا اور افسانوی ادب کا رخ موڑ کر چلا گیا اور اپنی فن کاری کے ایسے عمدہ نمونے چھوڑ گیا کہ ہم آج تک اس کے افسانے پڑھتے ہیں اور عش عش کرتے ہیں۔سماج کے مسائل کے ساتھ ساتھ انسان کی اندرونی نفسیاتی کیفیت اور سائکی کا بہترین تخلیقی اظہار ہمیں منٹو کے افسانوں میں ملتا ہے۔ عورت کا الگ الگ روپ اور عورتوں پر ہو رہے ظلم کے خلاف اٹھ رہی آوازوں میں منٹو کی آواز بانگِ دہل کے مشابہ تھی۔منٹو کی اسی خصوصیت پر بات کرتے ہوئے ان کی ایک کہانی ہتک کا ایک اقتباس نقل کرنے کے بعدنارنگ صاحب اپنی رائے کچھ اس طرح دیتے ہیں جس سے شاید میرے موقف کی تائید بھی ہوتی ہے:
’’یہاں لفظوں کے پردوں سے کیا ’جننی‘ کا وہ چہرہ نہیں جھانک رہاجو مرد کو جنتی ہے، پھر اس کے ہاتھوں ذلت برداشت کرتی ہے، وجود کی شکست کی انتہا کو پہنچتی ہے، ریزہ ریزہ ٹکڑوں کو جن میں ہر ٹکڑا ازلی درد کی تمثال ہے، مجتمع کرتی ہے اور پھر خود ہی وجود کے وقار کو بحال کرتی ہے۔یہ تخلیق کے دائروی عمل کا رمز ہے۔سوگندھی ایک ویشیا ہے لیکن اس کے باطن میں یہ کیسی سرسراہٹ ہے۔ ان جملوں کو دوبارہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔’’آج کیوں وہ بے جان چیزوں کو بھی ایسی نظروں سے دیکھتی ہے جیسے ان پر اپنے اچھے ہونے کا احساس طاری کر دینا چاہتی ہے۔ اس کے جسم کا ذرہ ذرہ کیوں ’ماں‘ بن رہا تھا۔ وہ ماں بن کر دھرتی کے ہر شئے کواپنی گود میں لینے کو کیوں تیار ہو رہی تھی؟‘‘ کیا یہ ’کرونا‘کے وشال روپ کا یا ممتا یعنی عورت کے ترفع یافتہ تخلیقی وجود کا وہ چہرہ نہیں جو کائنات کے بھید بھرے سنگیت کا حصہ وہ ہے لیکن جو کانوں میں اسی وقت آتا ہے جب ہم ظاہری معمولہ حقائق کی آلائشوں میں گھری آنکھوں کو بند کر لیتے ہیں اور اندر کی آنکھوں سے متن کی روح میں سفر کرتے ہیں۔ کرونا کی یہ تہہ نشیں لہر پورے بیانیہ کی Ironyمیں جاری رہتی ہے جو سوگندھی اور مادھو کے رشتے کی قولِ محال کی صورت میں تشکیل پذیر ہوتا رہتا ہے۔‘‘
(صفحہ 81)
منٹو کے افسانے پر عملی تنقید کے اس طرح کے عمدہ نمونے کی امید صرف پروفیسر نارنگ ہی سے کی جا سکتی ہے۔عورت کے جس روپ کو منٹو نے اپنے افسانوں میں پیش کیا اس میں یہ سب سے بہتر تھا جس کی نشان دہی نارنگ صاحب نے کی۔’منٹو کی نئی پڑھت:متن، ممتا اور خالی سنسان ٹرین ‘کے تحت کتاب کے اس باب میں پروفیسر نارنگ نے منٹو کے تمام محاسن پر دل کھول کر گفتگو کی ہے۔منٹو کے یہاں عورت ہر روپ میں موجود ہے، اور عورت کے ہر روپ کی سا ئیکی بڑی مہارت اور خوبصورتی سے منٹو نے اپنی کہانیوں میں پیش کی ہے۔ منٹو کی جس اہمیت کو آج تسلیم کر لیا جا چکا ہے اگر ان کی زندگی میں ایسا ہوا ہوتا تو منٹو کی خوشی کی انتہا نہ ہوتی جس کے وہ بجا طور پر حق دار بھی تھے۔ پروفیسر نارنگ نے منٹو کی نئی پڑھت کی نئی روایت قائم کر دی۔ امید ہے کہ آنے والی نسل بھی منٹو کے افسانوں کے گم شدہ نکات کو کھنگالنے کی کوشش کریگی۔پریم چند اور منٹو اردو افسانوی ادب کے وہ دو بڑے نام ہیں جن کے بغیر اس صنف کا ذکر ادھورا ہوتاہے۔ اردو ادب کے ان درخشاں ستاروں پر ، اور ان کے فن پاروں پر جس قدر تحقیقی اور تنقیدی کام ہونا چاہیے تھا وہ اب تک نہیں ہوا۔البتہ ان حضرات پر مختلف کتابیں شائع ہو چکی ہیں لیکن پھر بھی تشنگی ابھی باقی ہے، در اصل ادب میں ریسرچ کا کام بھی مکھی پر مکھی بٹھانے سے زیادہ کچھ ہوتا نظر نہیں آتا۔ بلا شبہ یہ کتاب اس تشنگی کا مداوا پیش کرتی ہے۔
پروفیسر نارنگ کی تنقیدی بصیرت کا تعارف کرانا بیوقوفی ہوگی کیونکہ یہ روزِ روشن کی طرح عیا ں ہے۔ نارنگ صرف متن کے دائرے میں رہ کر بات نہیں کرتے اور نہ ہی متن کے دائرے سے باہر نکل کر ہوا میں باتیں کرتے ہیں۔ ان کی اپنی سوچ ہے، ان کا اپنا ویژن ہے ۔ ان کا اپنا ایک نظریہ ہے ۔یہ اور بات ہے کہ بہت سے ناقدین ان کے اس اپروچ کی وجہ سے ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔ اردو ادب کے ایک طالب علم کی حیثیت سے جب میں ان کی تنقیدی کتابوں پر نظرڈالتا ہوں تو شدت سے یہ محسوس کرتا ہوں کہ تنقید کے جو بھی تقاضے ہو تے ہیں یا ہو سکتے ہیں وہ سب نارنگ کے تنقیدی فن پاروں میں موجود ہیں۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ نارنگ نے تنقید کے جو اصول وضع کیئے وہ ایک ایماندارانہ اور دیانت دارانہ تنقید کے تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔یہ بات صرف پریم چند اور منٹو کے فن پاروں پر کی گئی ان کی تنقید کی بنیاد پر ہی نہیں بلکہ ان کے تمام تر تنقیدی کارناموں کو مد نظر رکھ کر کہی جا سکتی ہے۔ زیرِ نظر کتاب کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔اس میں تو نارنگ صاحب نے جس عمدگی اور ذہنی بالیدگی کے ساتھ فن پاروں کا عالمانہ جائزہ لیا ہے اس کے لیے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ پریم چند اور منٹو کے علاوہ موصوف نے ہر اس فکشن نگار پر اور ان کی تخلیقات پر گفتگو کی ہے جس کے بارے میں بات کرنا انہوں نے ناگزیر سمجھا۔ ایسا نہیں ہے کہ اس کتاب میں شامل حضرات ہی نے سارے معرکے سر کیے، ایسے بہت سے فکشن نگار ہیں جن کی حیثیت اردو ادب میں اپنی جگہ مسلم ہے مگر ان کے فن پر یہاں بات نہیں کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ صرف ایک کتاب میں سب کا ذکر ممکن نہیں۔ ممکن ہے کہ ان کا ذکر پر پھر کسی دوسری کتاب میں کریں۔ مگر جن جن لو گوں کا ذکر اس کتاب میں کیا گیا ہے وہ اور ان کی تخلیقات اردو فکشن کی تاریخ میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں۔ پریم چند، منٹو اور ذرا ذہن پر زور ڈالیے اور کوشش کیجیے کہ ایسے اور کون کون لوگ ہو سکتے ہیں جنہوں نے اردو فکشن کی بنیاد میں اپنی تخلیقات کے پتھر نصب کیے۔بیدی،انتظار حسین، بلونت سنگھ،بلراج مینرا ، سریندر پرکاش، انتظار حسین اور قرۃالعین حیدر ان تمام حضرات کی فکشن نگاری پر نارنگ نے اس کتاب میں بھرپور بحث کی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ محض اتنے ہی نام اردو فکشن کے معماروں کی فہرست میں ہیں مگر جیسا کہ عرض کیا جا چکا کہ ایک کتاب میں اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ اردو فکشن کے تمام معماروں پر تفصیلی گفتگو کی جائے، اگر پروفیسر نارنگ ان تمام اہم ناموں کو شامل کر لیتے تو اتنی تفصیل سے ہرایک پر بات نہیں کر پاتے ۔کسی بھی موضوع میں تشنگی باقی رہ جائے یہ نارنگ صاحب کا شیوہ نہیں۔
پریم چند اور منٹو کے بعد جس اہم فکشن نگار کی فنکارانہ کار کردگی پر پروفیسر گوپی چند نارنگ نے بات کی ہے وہ ہیں راجندر سنگھ بیدی۔ بیدی کے حوالے سے اس کتاب میں دو مضامین ’’بیدی کے فن کی استعاراتی اور اساطیری جڑیں‘‘ اور ’’اور چند لمحے بیدی کی ایک کہانی کے ساتھ‘‘ اس کتاب کی زینت ہیں۔بیدی پریم چند کے بعد اور منٹو اور کرشن چندر کے ساتھ کے بہترین لکھنے والوں میں سے ایک ہیں۔کرشن چندر رنگین اور اور شستگی کے ساتھ برجستہ نثر لکھنے کے لیے جانے گئے جب کہ منٹو جنسی مواد کی وجہ کر توجہ کا مرکز بنے رہے ۔ بیدی نے ان دونوں کے بیچ ایک نئی راہ نکا لی، انہوں نے فن کو فکر پر ترجیح دی۔بلا شبہ اساطیر اور استعارات یہ دو چیزیں ان کی افسانہ نگاری کے غالب عناصر ہیں۔گرہن بیدی کا ایسا شاہکار ہے جس میں استعارے اور اساطیر اپنی پوری آب و تاب سے سب سے پہلے نظر آئے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پہلی بار بیدی ہی نے عام بیانیہ سے ہٹ کر اردو میں علامتی اور استعاراتی اندازِ بیان کی بنیاد ڈالی۔بیدی کے افسانوں کو ہم زمان و مکان کے دائرے میں قید نہیں کر سکتے، اور نا ہی ان کے افسانوں کی علامتوں اور استعاروں کے بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہو گیااب اس افسانے میں اب اس سے زیادہ مطلب اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ بیدی کے افسانے ہمہ جہت ہوتے ہیں اس کی مختلف جہات ہوتی ہیں اور معنیات کا کوئی محدود نظام نہیں ہوتا۔ اس ضمن میں یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ گوپی چند نارنگ نے بیدی کی ایک کہانی کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ نارنگ صاحب جو بھی لکھتے ہیں تفصیل سے لکھتے ہیں سر سری گفتگو ان کے دائرہ نقد سے باہر ہے۔
بیدی کی کہانیوں میں زیریں لہر میں ایک دیو مالائی کہانی بھی ہوتی ہے جو پلاٹ کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتی ہے اور اس کو اس ڈھنگ سے تخلیق کیا گیا ہوتا ہے کہ ایسا کہیں پر بھی نہیں لگتا کہ یہ شعوری کوشش کا نتیجہ ہیں اور ان کا گہرا ربط پلاٹ کے معنیاتی نظام کے ساتھ ہوتا ہے۔ بیدی کی ان ہی خصوصیات کے بارے میں نارنگ صاحب نے لکھا ہے:
’’بیدی کے فن میں استعارہ اور اساطیری تصورات کی بنیادی اہمیت ہے۔ اکثر و بیشتر ان کی کہانی کا معنوی ڈھانچا دیو مالائی عناصر پر ٹکا ہوتا ہے۔لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہوگا کہ وہ شعوری یا ارادی طو ر پر اس ڈھانچے کو خلق کرتے ہیں اور اس پر کہانی کی بنیاد رکھتے ہیں۔واقعہ یہ ہے کہ دیو مالائی ڈھانچہ پلاٹ کی معنوی فضا کے ساتھ ساتھ از خود تعمیر ہوتا چلا جاتا ہے۔ بیدی کا تخلیقی عمل کچھ اس طرح کا ہے کہ وہ اپنے کردار اور اس کی نفسیات کے ذریعے زندگی کی بنیادی رازوں تک پہنچنے کی جستجو کرتے ہیں۔ جبلتو ں کے خود غرضانہ عمل، جسم کے تقاضوں اور روح کی تڑپ کو وہ صرف شعور کی سطح پر نہیں بلکہ ان کی لا شعوری وابستگیوں اور صدیوں کی گونج کے ساتھ سامنے لاتے ہیں۔بیدی کے ہاں کوئی واحد واقعہ واقعہ محض نہیں ہوتا۔بلکہ ہزاروں لاکھوں دیکھے اور ان دیکھے واقعات کی نہ ٹوٹنے والی مسلسل کڑی کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ تخلیقی عمل میں چونکہ ان کا سفر تجسیم سے تخیل کی طرف، واقعہ سے لا واقعیت کی طرف تخصیص سے تعمیم کی طرف اور حقیقت سے عرفان کی طرف ہوتا ہے، وہ بار بار استعارہ ، کنایہ اور دیومالا کی طرف جھکتے ہیں۔ ان کا اسلوب اس لحاظ سے منٹو اور کرشن چندر دونوں سے مختلف ہے۔‘‘
(صفحہ 104)
اس طرح بیدی کی تخلیقات کا تجزیہ کرتے ہوئے وہ اس کتاب میں فکشن کی تمام کڑیوں کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔بیدی کی تقریباََ تمام تر اہم تخلیقات کا جائزہ اس مضمون میں پروفیسر نارنگ نے پیش کیا ہے۔ اس کے بعد اس سفر کو آگے بڑھاتے ہوئے بلونت سنگھ کے افسانوں کو ایک خاص نظریہ سے دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے جس میں ان کے افسانوں کی اہم خصوصیات سائکی، ثقافت اور شکستِ رومان پر زیادہ فوکس کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ’’ انتظارحسین کا فن: متحرک ذہن کا سیال سفر‘‘ کے عنوان کے تحت انتظار حسین کے افسانوں پر بات کی گئی ہے۔
انتظار حسین کی افسانوی خدمات سے کون سا ادب کا ایسا طالب علم ہو گا جو نا واقف ہو۔ اور ایسا ناقد ڈھونڈ پانا بہت مشکل ہے جو اردو افسانوں میں ان کی خدمات اور ان کی عظمت کا معترف نہ ہو۔ انتظار حسین وہ پہلے اردو کے ایسے افسانہ نگار ہیں جنہوں نے اردو افسانوں کی تاریخ کا فائد ہ اٹھا کر پرانی حکایات کی خصوصیات کو اپنے مختصر افسانوں میں پیش کیا۔ حکایات سننے اور سنانے کے طرز پر لکھی جاتی تھیں جب کہ آج کے افسانے پڑھنے اور پڑھا نے کی غرض سے لکھے جاتے ہیں۔ پروفیسر نارنگ نے ان کی کہانیوں کو چار الگ الگ حصوں میں بانٹا ہے۔ اگر ہم نارنگ صاحب کی مانیں تو چھٹی دہائی سے قبل انتظار حسین کی کہانیوں میں فوری ماضی کے حادثات و واقعات کا اثر زیادہ دکھائی پڑتا ہے جس میں تقسیم ملک کا درد اور اس کے خارجی اور داخلی اثرات اور بھولی بسری یادیں بھری پڑی ہیں۔ یعنی سیدھے سادے الفاظ میں ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ انتظار حسین کی شروع کی کہانیوں میں نوسٹلجیا) (Nostalgiaاور تقسیمِ ملک کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے واقعات و حادثات اصل موضوع رہے ہیں۔اب ایک خاص وقت کے بعد یہ جو خاص معاشرتی المیہ جو تقسیمِ ملک کی وجہ سے پیدا ہوا ،انتظار حسین کے ذہن میں گھر کر گیا تھا اب اس کا کینوس تھوڑا اور بڑا ہو گیا اور اب یہ محض کسی ملک یا خطے میں قید نہیں رہا بلکہ پوری انسانیت کا درد ، اور پوری انسانیت کا اخلاقی، روحانی اور معاشرتی زوال انتظار حسین کی کہانیوں کا اصل موضوع بن گیا۔ تکنیک کے اعتبار سے بھی تبدیلی آئی، بظاہر سیدھے سادے بیانیہ والی کہانی اب تمثیلی ہوتی گئی۔ ان کے دونوں افسانوی مجموعے ’گلی کوچے‘ او’ر کنکری‘ کے مقابلے ’آخری آدمی ‘میں سیدھے سادے بیانیہ کے بجائے تمثیلی فضا زیادہ ملتی ہے۔ تیسرا حصہ انتظار حسین کی کہانیوں کے سفر میں پروفیسر نارنگ نے ان کہانیوں کو مانا ہے جو مجموعہ’ شہر افسوس‘ میں شامل ہیں۔ اس مجموعہ میں شامل کہانیوں کا مشترک محرک نفسیاتی اور انسانی ہونے کے بجائے سیاسی اور سماجی ہے۔شہر افسوں میں شامل افسانو ں کا مطالعہ کرنے کے بعد نارنگ اس کو انتظار حسین کی کہانیوں میں ہونے والی تیسری بڑی تبدیلی مانتے ہوئے اس کو ’تیسرا پڑاو ‘ کہہ کر منسوب کیا گیا ہے۔
انتظار حسین کے افسانوی سفر میں چوتھے دور کے طور پران افسانوں کو مانا ہے جو شہر افسوس کے بعدلکھے گئے اور باضابطہ بعد کے مجموعوں میں شائع ہوئے۔ ان افسانوں میں جو بڑی تبدیلی نارنگ صاحب نے محسوس کی وہ قدیم اساطیر ی روایتوں کے تناظر میں آج کی زندگی کو پرکھنا اور مختلف تخلیقی سطحوں پر ان کا ان نئے افسانوں میں موجود ہونا، جو ان کی پچھلی کہانوں میں اس شدت سے موجود نہیں ہیں جتنی بعد کی کہانیوں میں ہیں۔
دراصل حقیقی زندگی میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات و حادثات ہر ادنیٰ و اعلیٰ، تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ، عورت اور مرد سب پر اپنا اثر چھوڑ جاتے ہیں۔ ہر شخص کسی بھی واقعے کو اپنے اپنے انداز سے بیان کرتا ہے۔ جب کوئی بھی شخص کسی بھی واقعے کو بیان کرتا ہے تو وہ اس کو ہو بہ ہو بیان نہیں کر سکتا، یا تو واقعے کو بڑھا کر پیش کرتا ہے یا پھر گھٹا کر پیش کرتا ہے ۔ یہ قطعی ممکن نہیں کہ ایک شخص کیسی واقعے کو ایسی زبان میں بیان کر دے جو اس واقعے کی شدت کو ہو بہ ہو منتقل کر دے۔ اب یہاں کسی عام آدمی کی بات نہ کریں اور ایک ادیب کی بات کریں تو یہی اصول یہاں بھی نافذ ہوتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ ایک ادیب ہر واقعے کو اس نظر سے نہیں دیکھتا جس نظر سے ایک عام آدمی دیکھتا ہے۔ ایک ادیب ایک عام سے واقعے کو بہت شدید بنا کر پیش کر سکتا ہے او ر اسی طرح سے ایک بہت ہی شدید واقعے کو بہت ہلکا کر کے پیش کر سکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہم یہ طے کرتے ہیں کہ کون سا ادیب، شاعر یا افسانہ نگار کس معیار کا ہے۔ چونکہ انتظار حسین ایک ایسے فن کار ہیں جو عام سے واقعہ کو بھی ماضی کی اساطیر اور اسلامی اور اس سے پہلے کی تہذیب کی آمیزش سے ایک غیر معمولی افسانے میں تبدیل کر دیتے ہیں اس وجہ سے وہ ایک بلند پایہ افسانہ نویس ہیں ۔ اور یہی خصوصیت انتظار حسین کو دوسرے افسانہ نگاروں سے ممتاز کرتی ہے۔
انتظار حسین کے بارے میں پروفیسر نارنگ نے جو رائے قائم کی ہے وہ ان کے افسانہ نگاری کے قد سے انصاف کرتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ ملا حظہ کیجیے نارنگ صاحب کی یہ رائے:
’’انتظار حسین کا یہ کارنامہ معمولی نہیں کہ انہوں نے افسانے کی مغربی ہیئت کو جوں کا توں قبول نہیں کیا، بلکہ کتھا کہانی اور داستان و حکایت کے جو مقامی سانچےIndigenous Modelمشرقی مزاجِ عامہ اور افتادِ ذہنی کے صدیوں کے عمل کا نتیجہ تھے، اور مغربی اثرات کی یورش نے جنہیں رد کر دیا تھا، انتظار حسین نے ان کی دانش و حکمت کے جوہر کو گرفت میں لے لیا، اور ان کی مدد سے مروج سانچوں کی تقلیب کر کے افسانے کو ایک نئی شکل اور نیا ذائقہ دیا۔ داستان کی روایت سے استفا دہ کرنے کی اولین کوشش اگر چہ عزیز احمد کی طویل کہانی ’’جب آنکھیں آہن پوش ہوئیں‘‘ میں ملتی ہے، جس میں مغل اور تاتاریوں کے عہد کی باز آفرینی میں نثر کے پرانے اسالیب کو بھی برتنے کی کوشش کی گئی ہے،لیکن یہ محض ایک تجربہ تھا، جبکہ انتظار حسین کے یہاں معاملہ اردو فکشن کو ایک نئے تخلیقی مزاج سے آشنا کرنے، یا دو اصناف کے جوہر کو کشید کر کے دو آتشہ کی کیفیت پیدا کرنے کا ہے۔انتظار حسین کے کمالِ فن کا ایک پہلو یہ ہے کہ انہوں نے افسانے کو متصوفانہ، فلسفیانہ جستجو اور تڑپMystical Questسے آشنا کرایا ہے۔‘‘
)صفحہ(247
آج کے فکشن پر تنقید کرتے وقت یہ ممکن نہیں کہ کوئی بھی نقاد انتظار حسین کی خدمات کو ان دیکھا کر دے۔ بلاشبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ انتظار حسین اردو افسانوں کی دنیا روایتی سے ہٹ کر ایک نئی راہ بنانے کے حامی ہیں۔جس زمانے میں انھوں نے آغاز کیا اردو ادب میں اس ظرح کی تخلیقات پر زور دیا جا رہا تھا جو مغرب سے بے حد متاثر تھیں۔ ہر چیز کو مغرب کے چشمے سے دیکھنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔انتظار حسین نے مغرب کے تکنیکی حسن کو نظر انداز کیے بغیر ہندوستان کی پرانی قدروں، اساطیری روایتوں اور ہزاروں سال سے چلے آ رہے متھ کو اپنے تخلیقی تجربہ کاحصہ بنایا جو بہر حال ایک نیا تجربہ تھا اور وہ بہت کامیاب رہا، اس قدر کامیاب کہ ہم انتظار حسین کے افسانوں کی کامیابی کی وجہ بھی ان ہی امور کو تسلیم کرنے لگے ، حالانکہ انتظار حسین کے افسانو ں کا حسن اگر ہم محض ان ہی خصو صیات کو ماننے لگیں تو یہ ان کے افسانوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ ان کی مخصوص تکنیک اور اسلوب بھی خاطر خواہ توجہ طلب ہے۔ اسی کتاب کے مقدمہ میں شافع قدوائی نے ان کے اسلوب پر بات کی ہے۔ یہ حصہ بھی توجہ طلب ہے؛
’’داستانی اور تمثیلی اسلوب کو نئی آگہی اور سماجی صورتِ حال سے ہم آہنگ کرنے کو انتظار حسین کے فن کا ما بہ الامتیاز عنصر ٹھہرایا جاتا ہے تاہم انتظار حسین کا خاص وصف یہ ہے کہ انھوں نے اردو میں پہلی بارPolitical Narratology یعنی سیاسی بیانیات کے خد و خال بھی واضح کیے ہیں اور عہد نامہ قدیم، اساطیری جاتک اور دیو مالا کی مدد سے ایک ایسا متن خلق کیا ہے جس کی اپیل ہمہ حسی Multi-sensoryہے۔ نارنگ صاحب نے ناول بستی، ناولٹ دن، اور کشتی کے تفصیلی تجزیے اور محاکمے میں سیاسی بیانات کی اصطلاح اختیار کیے بغیر انتظار حسین کے سیاسی اور سماجی سروکاروں کے تخلیقی اظہار کی نو عیت کو مو ضو عِ گفتگو بنایا ہے۔‘‘
(صفحہ 25)
شافع قدوائی کے اس بیان سے یہ تو واضح ہو ہی جاتا ہے کہ ان کی کہانیوں میں بہت سے نئے تجربے شامل ہیں جو ان کو اپنے عہد کے دوسرے افسانہ نگاروں سے ممتاز کرتے ہیں۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ گوپی چند نارنگ علامتی اور تجریدی تخلیقات کے حا می نہیں اور جدیدیت جو علامتی اور تجریدی رجحان کی حامی تحریک تھی، اس کے خلاف گوپی چند نارنگ نے بگل بجایا اور نئی تحریک ما بعد جدیدیت کو پورٹرے کیا، حالانکہ اس میں جزوی سچائی ہے۔ پروفیسر نارنگ نے ادب کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش ضرور کی مگر اس کا یہ مطلب قطعی نہیں کہ وہ پہلے سے رائج رجحانات کی اہمیت کے منکر ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو نارنگ صاحب، تجریدی اور علامتی کہانی کیا ہوتی ہے اور اسکی کیا خصوصیات ہیں اور ان کی ادب میں کیا اہمیت ہے، یہ بتاتے ہوئے اس کتاب میں ’’ اردو میں علامتی اور تجریدی افسانہ: بلراج مینرا اور سریندر پرکاش‘‘ کے عنوان سے اپنا مضمون شامل نہیں کرتے۔ ترقی پسند تحریک کے بعد اردو ادب میں ایک بڑا زمانہ علامتی اور تجریدی طریقِ تحریر کا زمانہ رہا ہے۔ اور اس دور نے اردو ادب کو بہت سے اچھے ادبی نمونے بھی دیے۔ ظاہر ہے ہر سکہ کے دو پہلو ہوتے ہیں، تو علامتی اور تجریدی طریقِ تخلیق کے بھی کچھ منفی پہلو تھے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
علامتی کہانی کیا ہوتی ہے ، اس میں کون کون سی خوبیاں ہوتی ہیں جو انہیں علامتی یا تجریدی بناتی ہیں اس کو سب سے پہلے 1967 میں نارنگ صاحب نے مثالوں کے ذریعہ واضح کرنے کی کوشش کی۔ یوں تو بہت سے علامتی اور تجریدی افسانے ہمارے گراں قدر ادبی سمندر کے بیش بہا موتیوں کے بطور موجود ہیں،ان ہی میں سے ایک افسانہ جو بلراج مینرا کا مشہور افسانہ ہے’ماچس‘ کا تنقیدی تجزیہ کرتے ہوئے علامتی افسانوں کی خصوصیات کو واضح کرنے کی کوشش نارنگ ہی کا کارنامہ ہے، جو ادب کے ہر طالب علم کے لیے بہت ہی معلومات افزا مضمون ہے۔
در اصل یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جس کو سگریٹ پینے کی لت لگی ہے اور وہ اچانک رات میں اٹھ کر ماچس کی تلاش میں ادھر اٗدھر بھٹکتا ہے مختلف لوگوں سے ماچس مانگتا ہے مگر اس کو کہیں ماچس نہیں ملتا۔آخر کار وہ ایک ٹوٹے ہوئے پل پر ایک سرخ کپڑے سے لپٹی ہوئی لالٹین سے سگریٹ سلگانا ہی چاہتا ہے کہ اس کو پولس گرفتار کر کے جیل لے جاتی ہے جہاں بہت سی ماچسیں رکھی ہیں اور بہت سے لوگ سگریٹ پی رہے ہیں مگر وہ وہاں بھی سگریٹ نہیں سلگا پاتا، اس پر آوارہ گردی کا الزام لگا کر اسے و ہاں سے نکال دیا جاتا ہے۔ راستے میں وہ ایک اور شخص سے ماچس مانگتا ہے جو خود ماچس کی تلاش میں ہوتا ہے۔ اس تلاش کے دوران وہ حلوائی کی دکان میں سوئے ہوئے ایک آدمی سے بھی ماچس مانگتا ہے لیکن وہ یہ کہتے ہوئے انکار کر دیتا ہے کہ ماچس تو سیٹھ لوگوں کے پاس ہوتی ہے۔
اس ماچس کی کہانی کی تلخیص یہاں پر پیش کرنے کا محض یہ مقصد ہے کہ یہ واضح ہو جائے کہ اس کہانی کی توضیح کس طرح سے کی گئی ہے۔نارنگ صاحب اس کی توضیح یوں بیان کرتے ہیں کہ جو شخص ماچس کی تلاش میں سرگرداں ہے وہ ایک باشعور آدمی ہے اور ماچس زندگی کی معنویت کا استعارہ ہے۔ اب اس علامتی شعور کے ساتھ اگر قاری اس افسانے کو پڑھے تو اس فن پارے کی قرات کا مزہ دوبالا ہو جائے۔ یہاں یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ نارنگ صاحب نے اس افسانے کی جو توضیح بیان کی ہے ، افسانہ نگار نے اس کا کوئی اشارہ بھی اپنی طرف سے نہیں دیا ہے اور نہ ہی اس توضیح کو Absoluteمانا جا سکتا ہے۔ یہ منحصر کرتا ہے قاری کی ذہنی بالیدگی پر کہ وہ اس کہانی میں کس طرح کا معنیاتی نظام پیدا کرتاہے اور آ یا قاری ا کہانی میں کوئی مخصوص معنیاتی نظام قائم کر پاتا بھی ہے یا نہیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ قاری اس فن پارے میں کوئی ایسی علامتی کہانی گڑھ لے جس کا افسانہ نگار نے گمان بھی نہ کیا ہو۔ علامتی کہانیوں میں ترسیل کا یہ فقدان ہی علامتیت کے زوال کا سبب ہوا۔ ترسیل کی کمی کوئی معمولی کمی نہیں ترسیل ھی ادب پاروں کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔
بہر حال ماچس کی کہانی کی تلخیص بیان کرنے کے بعد علامتی افسانوں کی خوبیوں پرنارنگ صاحب کچھ اس طرح روشنی ڈالتے ہیں:
’’آپ نے دیکھا کہ علامتی افسانے میں افسانہ نگار الفاظ کو محض لغوی یا منطقی معنی میں استعمال نہیں کرتا۔علامتیں تیز روشنی Flash) ( کی طرح سامنے آتی ہیں، اور ایک ساتھ انگنت معنوی امکانات جھلمل جھلمل کرنے لگتے ہیں۔ ہم اپنے تجربے اور احساس کی بنا پر ایک دو معنی کو فوری طور پر لے لیتے ہیں اور باقی کو تحت الشعور کی دھند میں روشنی اور تاریکی کے بلبلوں کی طرح ابھرنے اور مٹنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے افسانوں میں علامتیں ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہا تھ ڈالے ہوئے استعاروں کی طرح ہیں اور ایک نظام کی حیثیت سے کار فرما ہوتی ہیں۔ اگر غور و فکر سے کام لیا جائے تو اس نظام تک رسائی حاصل کرنا اور اس کی کڑیاں ملانا چنداں مشکل نہیں۔‘‘
(صفحہ254)
اس کے بعد اسی طرح بلراج مینرا ہی کی دوسری کہانی ’’ کمپوزیشن دو ‘‘ کی تکنیک پر خاطر خواہ گفتگو کی گئی ہے اور اس کے علامتی نظام کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سریندر پرکاش کا مشہور افسانہ ’’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘ پر مدلل اور سیر حاصل گفتگو اس مضمون میں کی گئی ہے۔ اس کہانی میں ڈراینگ روم کو نارنگ صاحب نے ہمارے جدید معاشرے کی علامت بتایا ہے۔سریندر پرکاش علامتی کہانیوں کے ماہرین میں گنے جاتے ہیں ان کے افسانے اچھے علامتی افسانوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ جدید دور کے لوگوں کی ذہنی کشمکش کو عام طور پر انہوں نے اپنا موضوع بنایا ہے۔
سریندر پرکاش کی اس کہانی کے تجزیے کے ساتھ اس مضمون کو مکمل کیا گیا ہے۔ مضمون کے اخیر میں پروفیسر نارنگ نے سریندر پرکاش کی جن چند خوبیوں کا ذکر کیا ہے اس سے ان کی ناقدانہ دیانتداری کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ ٖفن پارہ کی پرکھ کے لیے جو معیار نارنگ صاحب نے بنایا ہے در اصل وہی تنقید کا مناسب اور معتدل معیار ہے ۔ نہ صرف یہ کہ سریندر پرکاش کے افسانوں کو اس مضمون میں اچھی تخلیقات میں شامل کیاگیا ہے بلکہ ان کے وضع کیے ہوئے علامتی نظام تک رسائی نہ حاصل کر سکنے والے قارئین کو بھی طنز کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ نارنگ صاحب کہتے ہیں:
’’لغوی معنی سے پرے دیکھ سکنے والوں کے لیے سریندر پرکاش کے افسانوں میں اسطوری فضا، داستان کی سی کیفیت اور قصے کی سی کشش ہے۔ لیکن وہ لوگ جو رسمی معنوں میں ابلاغ کا ماتم کرتے رہتے ہیں، ان کے بارے میں سوائے اس کے اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ انھیں اپنی تخیلی نا رسائی کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ ‘‘
)صفحہ (266
’نیا افسانہ: روایت سے انحراف اور مقلدین کے لیے لمحہ فکریہ‘ کے عنوان سے بھی ایک خاصا دلچسپ مضمون ہے۔ اس مضمون کے اندر پوری بحث روایت اور اس سے انحراف کے بارے میں ہے جیسا عنوان سے ظاہر ہے۔ اس مضمون میں خصوصاََ ان دو طرح کے نئے لکھنے والوں کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ایک تو ان کی جن کے یہاں نئے انسان کے نئے مسائل کا احساس تو ہے لیکن بغاوت کی لے اتنی شدید نہیں دوسرے وہ لکھنے والے ہیں جن کی آواز باغیانہ ہے اور وہ غصہ ور نوجوانوں کے ذیل میں آتے ہیں، اور وہ کہانی کے رویتی ڈھانچوں سے مطمئن نہیں اور کہانی کی پوری ہیئت کو یکسر بدل دینا چاہتے ہیں۔ اول الذکر قسم کے کہانی کاروں کی فہرست میں نارنگ صاحب نے رام لعل، جوگندر پال، کلام حیدری،شرون کمار ورما،غیاس احمد گدی، جیلانی بانو،اقبال مجید، اقبال متین،رتن سنگھ، ستیش بترا، قیصر تمکین ، منیر احمد شیخ،واجدہ تبسم، غلام الثقلین، آمنہ ابو الحسن،امر سنگھ اور عوض سعید کے نام شامل کیے ہیں جب کہ مندرجہ بالا دوسری قسم کے لکھنے والوں میں جن نئے افسانہ نگاروں کا ذکر پروفیسر نارنگ نے کیا ہے وہ ہیں انور سجاد،بلراج مینرا، سریندر پرکاش (ان دونوں کے افسانوں پر الگ سے ایک مضمون شاملِ کتاب ہے اور اس پر پہلے بات کی جا چکی ہے)، احمد ہمیش، دیوندر اسر، خالدہ اصغر ، کمار پاشی، انور عظیم او ر بلراج کومل کے نام ہیں۔ یہ تمام لوگ در اصل نئے افسانے کے ارتقا میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہاں ایک بات قابل غور ہے وہ یہ کہ و دوسرے بہت سے نقاد نئے لکھنے والوں کا نام آتے ہی ناک بھَؤں چڑھانے لگتے ہیں جیسے کسی نے کسی ہیچ شئے کا تذکرہ کر دیا یا پھر ایسے لوگوں کے نام لے لیے گئے جو ان کے نزدیک ان کے شایانِ شان نہیں ہے۔ نارنگ نئے لکھنے والوں پر بات کر تے ہوئے جن الفاظ کا استعمال کرتے ہیں ان سے یہ پتہ چلتا ہے کے وہ نئے قلم کاروں کو پوری طرح خاطر میں لاتے ہیں۔وہ بالکل بھیBiased نہیں ہیں، ان کی یہی خوبی ان کو دوسرے نقادوں سے ممتاز کرتی ہے۔ ان کی اس خوبی کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔
اب آئیے بات کرتے ہیں نارنگ صاحب کے مخصوص نظریہ کی یعنی ساختیاتی طریقہ کار۔ پروفیسر نارنگ اور ساختیاتی تنقید کا کیا رشتہ ہے یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ۔ اس کتاب میں اپنے مضمون ’’فکشن کی شعریات او ر ساختیات ‘‘ میں نارنگ صاحب نے ساختیاتی طریقِ تنقید کی خوبی بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بیانیہ کے مطالعے کے لیے یہ طرز نہایت ہی موزوں ہے۔ لِہٰذا لکھتے ہیں:
’’ساختیاتی طریقہ کار بیانیہ (Narrative)کے مطالعے کے لیے خاص طور پر موزوں ہے۔اس کی اطلاقی سرگرمی سب سے زیادہ اسی میدان میں ملتی ہے۔بیانیہ کا ایک سرا متھ، اساطیر دیو مالا، کتھا کہانی وغیرہ لوک روایتوں (Folklore)سے جڑا ہوا ہے تو دوسرا ایپک ، ڈرامے، ناول اور افسانے سے جڑا ہوا ہے۔ موخر الذکر اصناف طوالت، پیچیدگی اور فنی تراش خراش میں بیانیہ کے اولین تاریخی نمونوں سے خاصی مختلف ہیں۔تاہم بیانیہ کی طویل تاریخ میں بعض ساختیاتی عناصر مشترک بھی ہیں، مثلاََ پلاٹ، منظر نگاری ،کردار ، مکالمہ انجام وغیرہ۔ ساختیاتی فکر چونکہ نظروں سے اوجھل داخلی ساخت اور کلی تجریدی نظام پر زور دیتی ہے۔ بیانیہ کی مختلف اقسام کا مطالعہ ساختیات کے لیے خاص کشش رکھتا ہے۔ اور ساختیاتی مفکریں ن نے اس چیلنج کو بخوبی قبول کیا ہے۔‘‘
)صفحہ321 (
اس طرح سے اقتباس بالا دلالت کر تا ہے کہ جب بات آتی ہے ساختیات کی تو گوپی چند نارنگ پوری Authorityکے ساتھ بات کرتے ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ چونکہ ساختیاتی طریقہ کار ان کو پسند ہے محض اس لیے انہوں نے من بنا لیا کہ چلو اب فکشن پر ساختیات کے حوالے سے بات کی جائے بلکہ اس کا ایک جواز پہلے پیش کیا گیا اور بہترین جواز پیش کیا گیا جسے پڑھ کر قائل ہونا پڑتا ہے۔ پھر مختلف مغربی مفکرین کے حوالے سے اپنے اس جواز کو مضبوطی بھی دی ہے۔اس مضمون میں انہوں نے بتایا ہے کہ ساختیاتی مطالعے کے اولین بنیاد گذاروں میں روسی ہیئت پسند ولاد میر پروپ(Vladimir Propp) اور فرانسیسی ماہرِ بشریات کلاڈ لیوی سٹراس(Claude Levi Strauss)یہ دو اہم نام ہیں۔ان دونوں کے بارے میں نارنگ صاحب نے اس مضمون میں جس طرح سے گفتگو کی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ بیانیہ پر ساختیاتی تنقید کا پہلا تجربہ ان ہی حضرات نے کیا ہے۔ موجودہ بیانیہ کے بارے نارنگ صاحب یہ رائے رکھتے ہیں کہ اس کا رشتہ متھ، اساطیر، دیو مالا اور قدیم لوک ساہتیہ سے بہت ہی گہرا ہے۔اور اس رشتہ کو بیانیہ کے بارے میں بات کر تے ہوئے ہم چاہیں بھی تو ان دیکھا نہیں کر سکتے۔ البتہ موجودہ بیانیہ میں قدیم روایات کو اس رشتہ سے الگ کرنے کی کوشش اکثر و بیشتر کی گئی مگر ہر بار یہ کوشش ناکام رہی اور بیانیہ اپنے اولین سر چشمہ کی طرف پلٹتا رہا۔ نارنگ صاحب نے جا بہ جا اس مضمون میں مختلف مفکرین کا حوالہ دے کر اپنی آراء کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے اور وہ اس کوشش میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔یہ بات بالکلیہ صحیح ہے کہ بیانیہ میں داخلی جذبات کی کار فرمائی زیادہ رہتی ہے اور اس بنیاد پر یہ درست ہے کہ جس موئثر طریقہ سے بیانیہ کا جائزہ ساختیاتی طریقہ سے کیا جا سکتا ہے اتنے موئثر طریقہ سے کسی اور تنقیدی دبستان میں یہ تجزیہ ممکن نہیں۔
اس مضمون میں الگ الگ طریقہ سے یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ بیانیہ میں قلم کارجس قدر آزادی سے کہانی میں اپنا عمل دخل رکھتا ہے اس آزادی سے کردار وں کے ذریعہ پیش کیے گئے مکالمے میں نہیں رکھ پاتا، وجہ اس کی یہ ہے کہ کردار محدود ہوتے ہیں اور قلمکار کو براہِ راست مکالمہ کی صورت میں کردار کی حیثیت اور
محدود یت کا خیال رکھنا ہوتا ہے جب کہ بیانیہ میں اس طرح کی کوئی قید نہیں ہوتی۔
ساختیاتی فکر کو آگے بڑھانے والے مفکرین میں نارتھروپ فرائی بھی ایک اہم نام ہے جس کے حوالے سے نارنگ صاحب نے اس مضمون میں اپنی بحث کو آگے بڑھایا ہے۔فرائی کی 1957 Anatomy of Criticismمیں شائع ہوئی اور اس کے شایع ہوتے ہی ادب میں ایک نئی بحث یہ چھڑگئی کہ آیا متن کو محض متن کی حد تک ہی رکھ کر گفتگو کی جانی چاہیے یا پھراس کا مطالعہ اس دائرہ سے اوپر اٹھ کر دوسرے فنون، فن پاروں اور اساطیر کے اثرات کی بنیاد پر متن کا قد متعین کیا جانا چاہیے۔ فرائی کا نظریہ موخر الذکر تھا اور چونکہ یہ دعویٰ اس قدر پختہ دلایل پر مبنی تھا کہ اس کی مخالفت کی بہت کم گنجایش باقی رہ گئی تھی، لہٰذا ایک بڑا ادبی گروہ فرائی کے نظریہ کی بنیاد پر ادبی فن پاروں کی پرکھ کرنے لگا۔
فرائی کے اس تنقیدی دبستان کا نام آرکیٹائپل تنقید پڑا۔ آرکیٹایپل تنقید کی ایک اور خوبی یہ تھی کہ اس میں خارجی پہلو کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہو داخلیت کو اس میں فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ادب پر خارجی پہلو اثر انداز نہیں ہوتے مگر فرائی اپنے مخصوص نظریے کے تحت ان کو کم اہمیت دیتا ہے۔ اختلاف کی گنجایش بہر حال موجود ہے۔1966تک آتے آتے ساختیاتی تنقید میں کچھ اور نام جڑ جاتے ہیں۔نارنگ صاحب کے مطابق گریما نے بیانیہ کے معنیاتی تجزیہ کے بارے میں اپنا ایک نظریہ قایم کیا جس سے بیانیہ کے تجزیہ کے لیے ساختیاتی طریقہ کار کے موزوں ہونے کو اور بھی تقویت ملی۔ گریما کے مطابق چونکہ انسان حیوانِ ناطق ہے اس لیے زبان کی بنیادی ساختوں کا بیانیہ کی بنیادی ساختوں پر اثر پڑنا فطری ہے۔ گریما اور پروپ کے مابین فکری مطابقت اور مخالفت پر بات کرتے ہوئے پروفیسر نارنگ اپنی رائے یوں ظاہر کرتے ہیں:
’’گریما کا فکری رویہ روسی بنیاد گذار پروپ سے زیادہ ساختیاتی ہے کیوں کہ گریما اپنی اصول سازی کے لیے اجزاکے ما بین، رشتوں کو بنیاد بناتا ہے، جب کہ پروپ نے اجزاکی فقط کرداری نوعیت کو پیش نظر رکھا ہے۔ بہر حال چراغ سے چراغ روشن ہوتا ہے ، اور یو ں فکر کا سلسلہ آگے بڑھتا ہے۔
مزید بر آں گریما نے بیانیہ کی تمام ترجیعوں(Sequences)کو ضابطہ بند کرنے کے لیے پروپ کے تفاعلی اجزا کو کم کر کے بیس کر دیا اور پھر ان کو بھی صرف تین نحویوں(Syntagms) میں منظم کر دیا۔ اصولی (contractual)، عملی(Performative) اور تداخلی(Disjunctive)۔ ان میں سے پہلا زمرہ خاصا دلچسپ ہے جو اصول یا عہد پر قائم رہنے، وعدہ نبھانے، یا اس کو توڑنے کے بارے میں ہے۔ بیانیہ کے مختلف اقسام میں ان میں سے کوئی بھی ساخت پائی جا سکتی ہے: عہد (یا ممانعت)، عہد شکنی (خلاف ورزی)، عہد کی عدم موجودگی (بد نظمی)، عہد کا استحکام (نظم و ضبط کا قیام)‘‘ وغیرہ۔
(صفحہ 342)
مندر جہ بالا اقتباس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ بیانیہ کے معاملے میں گریما کا اپروچ خاصا سائنٹفک ہے تبھی تو بیانیہ کے ساختیا تی اقسام کو بیان کرتے وقت وہ ادب سے زیادہ علم الانتظام (management)کے اصولوں سے کام لیتا ہے۔
گریما کے بعد بات کی گئی ہے ژینت کی جو نہایت ہی دلچسپ بحث کے ساتھ اس کتاب میں موجود ہے ۔ بیانیہ اور نقالی کے بنیادی فرق کو اس بحث میں اجاگر کیا گیا ہے۔ژینت کے مطابق بیانیہ جس میں مصنف اپنی زبان میں بات کرتا ہے اور نقالی جس میں مصنف کردار کی زبان میں بات کرتا ہے ، تو اپنی زبان میں بات کرنا تو ٹھیک ہے مگر جب کردار کی زبان میں بات کرتا ہے تو ژینت کے مطابق فکشن میں یہ ممکن نہیں کہ کردار کی زبان میں بات کرتے وقت مصنف محض کردار کی زبان بولے، کیوں کہ مصنف کا موضوعی ذہن تو اس میں شامل ہو ہی جاتا ہے۔
نارنگ صاحب کے مطابق پس ساختیاتی فکر اور رد تشکیل کو تحریک دینے میں ژینت نے بڑا رول ادا کیا۔ ان نئی تحریکوں کے بارے میں سوچنے پر آمادہ کرنے کے لیے ژاک دریدا کو محرک ژینت کے افکار نے ہی فراہم کیا ۔لہٰذا نارنگ صاحب لکھتے ہیں :
’’ژینت نے جس طرح بعض بنیادی تصورات کے تضادات کو پہلے قائم کیا اور پھر خود ہی ان کو چیلنج کیا اور منطقی طور پر بہ دلیل ان کو مسمار کر دیا، اس سے ملتے جلتے فکری رویہ نے آگے چل کر ژاک دریدا(Jacques Derrida)کے ایک بالکل نئے اور باغیانہ فلسفے’رد تشکیل‘ (Deconstruction)کے لیے دروازہ کھول دیا جو پس ساختیاتی فکریات کا خاص حصہ ہے۔‘‘
(صفحہ (349
اس طرح نارنگ صاحب نے اپنی اس نہایت ہی معلومات افزا اور فلسفیانہ گفتگو کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔ اس پوری بحث سے یہ تو واضح ہو ہی جاتا ہے کہ خود گوپی چند نارنگ کا تنقیدی رویہ کیا ہے او ر کس طرح وہ فکشن کے تجزیہ کو ترجیح دیتے ہیں ، اور کیوں۔
اس طرح کے اور بھی بہت سے معیاری مضامین اس کتاب کی زینت ہیں۔ اور سارے مضامین اپنے اپنے موضوعات کے مطابق بھرپورہیں ۔ اس قدر سیر حاصل گفتگو ہر مضمون میں ہے کہ پڑھنے کے بعد قا ری کو کہیں بھی تشنگی کا احساس نہیں ہوتا ہے۔
موجودہ دور میں ناقدین کی جو ٹولیاں ہیں دو گروہوں میں بٹی ہوئی ہیں ۔ ایک گروہ ایسا ہے جو صرف اردو کے عالی مرتبت قلم کاروں کلاسیک لکھنے والوں پر ہی قلم اٹھاتا ہے۔ اور جو دوسرا گروہ ہے وہ صرف نئی نسل کے لکھنے والوں پر اپنا زورِ قلم صرف کرتا ہے۔ ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک سرد جنگ چلتی رہتی ہے دونوں کا اپنا اپنا موقف ہے۔ ایک کا یہ ماننا ہے کہ اردو کا جو تابناک ماضی ہے اس پر بات کیے بغیر ہمارا ادب اور تنقیدی سرمایہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور آج کی بیشتر تخلیقات دوسرے درجہ کی ہیں ان میں وہ خوبی سرے سے موجود ہی نہیں کہ انہیں خاطر میں لایا جائے ، جب کہ دوسرا گروہ ماضی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے نئی راہ بنانے اور مستقبل کے ادیبوں کو آگے کی راہ ہموار کرنے کے حق میں ہے۔ دونوں گروہ اسی الگ الگ منطق رکھتے ہیں۔ یہ گروہ بندی کبھی با ضابطہ عمل میں نہیں آئی، غیر ارادی طور پر ان گروہوں کا وجود محسوس کیا جا سکتا ہے۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ میانہ روی اختیار کی اور اور بغیر کسی تفریق کے نئی اور پرانی دونو ں نسلوں کے قلم کاروں پر لکھا۔ بہت جلد وہ زمانہ بھی آ جائے گا یا کیا پتہ آ چکا ہے جس میں ہم دو نسلوں کے بجائے تین نسلوں کی باتین کریں گے پرانی نسل، درمیانی نسل اور نئی نسل۔
نارنگ صاحب نے بلا تفریقِ نسل و مذہب و علاقہ و عمر ہر اچھے ادیب پر قلم اٹھا یا اور جن پر نہیں اٹھایا ان کی تخلیقات کو بھی ہیچ نہیں جانا۔گویا ادبی دیانت داری کے تقاضے پر کھرے اترے۔ جہاں ایک طرف انتظار حسین کی کہانیوں پر بات کی وہیں دوسری طرف گلزار ، جابر حسین اور ساجد رشید کیے افسانوں پر بھی اپنی رائے پیش کی۔ جہاں کرشن چندر پر قلم اٹھایا تو قرۃ العین حیدر کو بھی خاطر خواہ توجہ دی۔ پرانوں کی اہمیت اور دیا شنکر نسیم کی مثنوی نگاری پر بھی پر مغز گفتگو کی۔ فکشن کی گویا پوری تاریخ کے نمایاں مقامات کا احاطہ اس کتاب میں نارنگ صاحب نے کر دیا ہے۔
البتہ قرۃالعین حیدر پر ار دو میں لکھنے کے بجائے انگریزی میں لکھنے کے پیچھے ان کا کیا مقصد ہے یہ سوال اٹھ سکتا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ عینی کے انتقال پر ان سے انگریزی پر لکھنے کی فرمائش کی گئی کیونکہ وہ گیان پیٹھ کی ایوارڈیافتہ تھیں۔ اسی لیے انہوں نے قرۃ العین حیدر کی فکشن نگاری پر بات کرنے کے لیے انگریزی زبان کا انتخاب کیا تاکہ بات انگریزی اور دوسری زبان لکھنے والوں تک بھی پہنچے۔ قرۃالعین حیدر ایک ایسی شخصیت کی مالک ہیں کہ ان کی تمام خدمات کا احاطہ ایک مضمون میں کرنا ممکن نہیں لگتا۔ وہ مختلف الجہت شخصیت ہیں بہ یک وقت وہ ناول نگار اور افسانہ نویس بھی ہیں اور صحافی بھی، وہ ایک اچھی ترجمہ نگار بھی ہیں اور رپورتاژ نگار بھی، وہ ایک کامیاب مصور بھی ہیں اور تاریخ نویس بھی۔اور بھی بہت کچھ۔ گوپی چند نارنگ نے اپنے اس انگریزی مضمون میں قرۃالعین حیدر کی الگ الگ جہتوں پر خصوصاََ فکشن نگاری پر بھرپور روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
اس کتاب ’’فکشن شعریات تشکیل و تنقید‘‘ کے بارے میں مندرجہ بالا وضاحتوں کی بنیاد پر یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اس کے تذکرے کے بغیر اردو فکشن کی تنقیدی تاریخ پر بات مکمل نہیں ہو سکتی۔ گوپی چند نارنگ نے گویا فکشن کی تنقید کی شاہراہ پر ایک میل کا پتھر نصب کر دیا ہے۔ یہ کتاب پہلے تو اردو اساتذہ کے لیے زیادہ مفید ہے بعدہ’ طالب علموں کے لیے۔

Followers